اجماع کی حجیت پر اہل سنت کی قرآنی دلیلیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 

اجماع کی حجیت پر اہل سنت کی قرآنی دلیلیں

سوال: اہل سنت، اجماع کی حجیت کو ثابت کرنے کیلئے کن آیات سے تمسک کرتے ہیں؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: علمائے اہل سنت، خلیفہ کو معین کرنے اوردوسرے امور میں اجماع کی حجیت اور اس کے معتبر ہونے کو مندرجہ ذیل آیات سے ثابت کرتے ہیں:
۱۔ خدا وند عالم فرماتا ہے:(ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ما تولی و نصلہ جھنم و ساء ت مصیرا)(۱)۔
اور جو شخص ہدایت کے واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور ہم اسے جہنم میں جھلسا دیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے۔
اہل سنت اس آیت سے اس طرح استفادہ کرتے ہیں : جس چیز پر مومنین نے اجماع کیا ہے اس کی مخالفت کرنا حرام ہے اور جوشخص ایسا کرے گا وہ جہنم میںجائے گا(۲)۔
مذکورہ آیت کے استدلال کے جواب میں ہم کہتے ہیں:
اولاً : غیر مومنین کی پیروی کرناہی رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی مخالفت ہے، مومنین کی سبیل و راہ سے مراد ، رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی اطاعت ہے، اور اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جو شخص بھی رسول خدا کی مخالفت کرے گا اورجس طرح مومنین آپ کی پیروی کرتے ہیں اس طرح ان کی پیروی نہیں کرے گااس کا ٹھکانہ جہنم ہے(۳)۔
ثانیاً : شرط، اس آیة شریفہ میں شرط دو چیزوں سے تشکیل پائی ہے : ایک رسول خدا کی مخالفت اور دوسرے مومنین کی مخالفت، اب اگر مومنین کی مخالفت، رسول اسلام کی مخالفت نہ ہو یعنی ایک شرط واقع نہ ہو تو اس کی جو جزا ہے یعنی جہنم میں جانا وہ اس کے اوپر مترتب نہیں ہوگی ۔ جس طرح سے شیعہ امامیہ نے اکثریت کی مخالفت کے ذ ریعہ ابوبکر کی مخالفت کرکے حرام کام نہیں کیا ہے ، کیونکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ)کے حکم کے مطابق ان لوگوںنے حضرت علی(علیہ السلام)کی خلافت پر عمل کیا ہے۔
ثالثاً : غیر مومنین کی سبیل سے مراد کافروں کی سبیل ہو : اس صورت میں اس کامومنین کے اجماع سے کوئی تعلق نہیں ہے ، جیسا کہ ”عضدی“ نے شرح المختصر میں اور تفتازانی نے شرح الشرح میں کہا ہے۔
رابعاً : آیت، ان مومنین کی پیروی کو واجب قرار دے رہی ہے جن کا ایمان ثابت ہے نہ مطلق مومنین کی اطاعت، اور اس طرح کے افراد بہت کم ہیں۔
خامساً: شیخ طوسی( اللہ علیہ)نے فرمایا ہے : ”المومنین“ میں الف اورلام، واضح نہیں ہے کہ استغراق اور شمول کے لئے ہے ، بلکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے کچھ مومنین مراد ہوں، اگر یہ احتمال قوی ہوجائے تو یہ استدلال ناتمام رہ جاتا ہے(۴)۔
۲۔ اس آیت سے استدلال :(و کذلک جعلناکم امة وسطا)(۵)اور اس طرح ہم نے تمہیں امت وسط قرار دیا۔
اہل سنت اس آیت کے استدلال میں کہتے ہیں : ”وسط“ کے معنی عدل کے ہیں، اور اگر امت خطا پر متفق ہوجائے تو عدل نہیں ہوسکتا لہذا اس وقت یہ آیت کے مضمون کے خلاف ہوجائے گا۔
اس آیت کے استدلال کے جواب میں ہم کہتے ہیں: اولاً: مذکورہ آیت کو امت کے تمام افراد یا تمام صحابہ پر حمل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امت کے بہت سارے لوگ اور کچھ صحابی ، عدالت کی راہ سے منحرف ہوگئے ہیں اسی طرح جس طرح قرآن کریم بہت سے لوگوں کو فاسق سے تعبیر کرتا ہے لہذا نتیجہ یہ ہوا کہ اس آیت کو مخصوص افراد پر حمل کریں جن کی عدالت یقینی ہے بلکہ جن کی عصمت ثابت ہے اور وہ اہل بیت(علیہم السلام)ہیں۔
ثانیاً : اس امت کو عدالت سے متصف کرناان کی عصمت کا مقتضی نہیں ہے تاکہ ان کا باطل پر متفق ہونا محال ہو ، کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ عادل ہوتے ہیں لیکن باطل کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ غالبا عادل اس کو کہتے ہیں جو عملا گناہ نہ کرتا ہو نہ یہ کہ وہ فکر اور عقیدہ میں بھی وہ باطل کا راستہ اختیار نہ کرے(۶)۔
حوالہ جات: ۱۔ سورہ نساء، آیت ۱۱۵۔
۲۔نظام الحکم فی الاسلام، محمد فاروق نھبان، ص ۳۷۰۔
۳۔ اصول الفقہ، خضری، ص ۲۸۶، غزالی سے منقول۔
۴۔ عدة الاصول، ج ۲، ص ۶۵۔
۵۔ سورہ بقرة، آیت ۱۴۳۔
۶۔علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبہات(۱)، ص ۸۴۔
تاریخ انتشار: « 1401/04/09 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1481