شوری(کمیٹی)کی مشروعیت پر اہل سنت کے قرآنی دلائل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 

شوری(کمیٹی)کی مشروعیت پر اہل سنت کے قرآنی دلائل

سوال: شوری(کمیٹی)کی مشروعیت پر اہل سنت جو قرآنی دلیلیں پیش کرتے ہیں کیا وہ دلیلیں صحیح ہیں؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اسلامی حاکم کی خلافت اور امامت کو ثابت کرنے کا ایک طریقہ اہل سنت کے نزدیک شوری(کمیٹی)ہے ، یعنی جو حاکم شوری(کمیٹی)کے ذریعہ سے منتخب ہو وہ جائزہے ، یہاں پر اہل سنت کی قرآنی دلیلوں کی تحقیق کرکے ان پر تنقید کرتے ہیں:
الف : آیہ، وشاورھم فی الامر:
خدا وند عالم فرماتا ہے : ”فبما رحمة من اللہ لنت لھم و لو کنت فظا غلیظا القلب لانفضوا من حولک فاعف عنھم و استغفرلھم و شاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ“۔ (اے رسول) یہ مہر الہی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے، پس ان سے در گزر کریں اور ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ کرلیا کریں پھر جب آپ عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔
اس آیت سے شوری کی حجیت پر تمام امور میں استدلال ہوا ہے کیونکہ خدا وندعالم نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ)کو اس امر کی دعوت دی ہے اور ہمیں بھی اس امر میں ان کی پیروی کرنا چاہئے۔
ہم اس استدلال کا جواب اس طرح دیتے ہیں :
۱۔ اس آیت کا مخاطب وہ شخص ہے جس کی حکومت ثابت ہے اس کے بعد اس کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ لوگوں سے مشورے کرے ۔ لیکن امر خلافت بھی شوری کے ذریعہ ثابت ہو اس بات کو ہم اس آیت سے ثابت نہیں کرسکتے۔
۲۔ آیہ شریفہ میں کلمہ ”امر“ سے مراد اجتماعی کام ہیں جو لوگوں سے مربوط ہیں لیکن امر خلافت بھی لوگوں کے امور میں سے ہو یہ بات ابھی موردبحث ہے۔
۳۔ آیہ کریمہ کے ظاہر اور کلمہ ”شورا“ سے صرف مختلف حوادث میں لوگوں سے مشورہ کرنا ثابت ہوتا ہے ،اس سے قبل کہ کوئی حکم صادر ہو، نہ یہ کہ حکم کا انتخاب بھی مشورہ کرنے والوں کا تابع ہو۔
۴۔ آیت کا آخری حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تنہا مشورہ، حاکم اسلامی کیلئے لازم العمل نہیں ہے بلکہ حاکم کی رائے ہے جو حکم کے صادر ہونے میں موثر ہے کیونکہ آیت میں ارشاد ہورہا ہے : ”فاذا عزمت فتوکل علی اللہ“(پھر جب آپ عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں)
چاہے اس کا ارادہ لوگوں کی رائے کے برخلاف ہو۔ لہذا امیرالمومنین(علیہ السلام)نے عبداللہ بن عباس سے مخاطب ہو کر فرمایا : تمہارے اوپر رائے دینا واجب ہے اور مجھ پر واجب ہے کہ میں اس میں غور وفکر کروں اگر میری رائے تمہارے مخالف ہوئی تو تمہیں میری اطاعت کرنی چاہئے(۲)۔
۵۔ مذکورہ آیت جنگ سے مربوط ہے اور اس سے یہ معنی سمجھ میں آتے ہیں کہ جنگجووٴں کے قلوب کو جذب کرنے کیلئے مشورہ ضروری ہے تاکہ وہ جنگ کے کاموں میں اپنے آپ کو حصہ دار اور ذمہ دار سمجھیں۔
اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ آیت ، سورہ آل عمران کی ۱۳۹ سے ۱۶۶تک کی آیات کے ضمن میں بیان ہوئی ہے اور یہ ساری آیات پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی جنگ سے متعلق ہیں کہ کس طرح مسلمانوں نے آنحضرت کی مدد کی اس وجہ سے فخر رازی کہتا ہے : ”مذکورہ آیت ، جنگ سے مخصوص ہے یعنی خدا وند عالم نے اپنے پیغمبر گرامی کو جنگ کے امور میں اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد کہتا ہے : ”الامر“میں الف اور لام عہد کیلئے ہے اور اس آیت میں معھودجنگ اور دشمن سے مقابلہ ہے(۳)۔
ابن عباس کہتے ہیں : اس آیت(و شاورھم فی الامر)کے نازل ہونے کے بعد رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ)نے فرمایا: آگاہ ہوجاؤ، خدا اور اس کے رسول مشورہ کرنے سے بے نیاز ہیں ، لیکن خدا وند عالم نے مشورہ کو میری امت کیلئے رحمت قرار دیا ہے(۴)...․۔
ب : آیت وامرھم شوری بینھم)۔
خدا وند متعال فرماتا ہے : ”والذین استجابوا لربھم و اقاموا الصلاة و امرھم شوری بینھم و مما رزقناھم ینفقون“(۵)۔
اور جو اپنے پروردگار کو لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے معاملات ، باہمی مشورت سے انجام دیتے ہیں اور ہم نے جو رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اس آیت سے استدلال اس طرح کرتے ہیں: کلمہ ”امر“مصدرہے اور جب بھی یہ مضاف ہوتا ہے تو عمومیت کا فائدہ دیتا ہے لہذا آیہ شریفہ سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے تمام کاموں میںمشورہ کا سہارا لیں اور انہی میں سے ایک کام امرخلافت میں مشورہ کرنا چاہے۔
ہم اس استدلال کے جواب میں کہتے ہیں :
۱۔ آیت ان امور میں مشورہ کرنے کا شوق دلاتی ہے کہ جو کام خود لوگوں سے مربوط ہیں لیکن خلیفہ اور حاکم اسلامی کومعین کرنا لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس کے متعلق بحث و تحقیق کی ضرورت ہے۔
۲۔ مشورہ ایسے کاموں میں صحیح ہے جن میں خدا اور رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ)کا حکم ہم تک نہیں پہنچا ہے ورنہ کسی کوحق نہیں ہے کہ خدا و رسول کے حکم کے مقابلے میں رائے دے ۔ خدا وند متعال فرماتا ہے : وما کان لمومن و لا مومنة اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرة من امرھم و من یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلالا مبینا(۶)۔
اورکسی مومن اور مومنہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کریں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیارحاصل رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔
اور دوسری جگہ فرماتاہے : ”و ربک یخلق ما یشاء و یختار ماکان لھم الخیرة(۷)۔اور آپ کا پرور دگار جسے چاہتا ہے خلق کرتا ہے اور منتخب کرتا ہے انہیں انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
۳۔ خلیفہ اور حاکم کو معین کرنے کے مسئلہ میں امت اسلامی ، شوری کے نظام سے مانوس نہیں تھی اور صرف دو آیتوں کو بیان کرکے ان کی کیفیت اور خصوصیت کو بیان کئے بغیر نظام شوری کو ثابت نہیں کیا جاسکتا(۸)۔
حوالہ جات: ۱۔ سورہ آل عمران ، آیت ۱۵۹۔
۱۔ نہج البلاغہ، عبدہ، ج۲ ، ص ۲۱۲۔
۲۔ تفسیر فخر رازی، مذکورہ آیت کے ذیل میں۔
۳۔ در المنثور، ج۲، ص ۳۵۹۔
۴۔ سورہ شوری، آیت ۳۸۔
۵۔ سورہ احزاب، آیت ۳۶۔
۶۔ سورہ قصص، آیت ۶۸۔
۷۔ علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبہات(۱)، ص ۹۶۔
۸۔ الاحکام السلطانیة، ماوردی، ص ۷۔
تاریخ انتشار: « 1401/04/09 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1559