مالک بن انس کا عقیدہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

مالک بن انس کا عقیدہ

سوال: پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے توسل کرنے کے سلسلہ میں مالک ابن انس کاکیا نظر یہ ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے توسل کرنے کے سلسلہ میں مالک ابن انس (اہل سنت کے چار اماموں میں سے ایک ہیں اویہ فرقہ مالکی کے امام بھی ہیں) کہتے ہیں: پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کے کنارے کھڑے تھے کہ ابو جعفر (منصور دوانقی)خلیفہ عباسی نے ان سے سوال کیااے مالک !پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر کے پاس جب دعا کریں تو قبلہ کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوں یا انکی قبر کے سامنے؟ تو مالک نے جواب دیا کہ تم اپنی صورت کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک سے کیوںموڑتے ہو، جبکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) تمہارے اور تمہارے باپ آدم کے لئے روز قیامت اللہ کی بار گاہ میںوسیلہ ہیں تم پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کی طرف رخ کرکے کھڑے ہو جاوٴ اور ان سے اپنے لئے شفاعت طلب کرو تاکہ وہ خد اکے حضور میں تمہارے لئے شفاعت کریں کیونکہ خدا وند عالم نے خود فرمایا ہے: وہ لوگ جنہوں نے خود ظلم کیا ہے اگر وہ تمہارے پاس آئیں اور وہ تم سے یہ چاہیں کہ خدا نکو معاف کردے اور خدا کا رسول بھی ان کےلئے استغفار کرے تویقینا وہ خدا کو توبہ قبول کرنے والااور مہر بان پائیں گے(۱)۔
اس مکالمہ میں چند مطلب واضح ہوتے ہیں :
۱۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کے نزدیک دعا مانگنا اور تابعین اصحاب رسول کا اس پر عمل پیرا ہونا خصوصا مالک بن انس کہ جو اہل سنت کے بہت بڑے عالم و امام ہیں ۔
۲۔ مدینہ کے کسی بھی عالم یا مسلمان نے مالک کے اس کلام کاانکار نہیں کیا اورنہ ہی اس کی کوئی مخالفت کی اور نہ ہی ابن انس کی سرزنش کی گئی اگر اہل مدینہ کے نزدیک یہ غلط ہوتا تو اہل مدینہ فورا اس کے خلاف فیصلہ لیتے اور حتما یہ بات تاریخ کے دامن میں موجود ہوتی کیونکہ اس طرح کے مطالب دوسرے مختلف مذاہب میں موجودتھے ۔
۳۔ مالک ابن انس جیسے افراد نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے جانے کے بعد بھی انکی قبر کے کنارے ان سے توسل اور شفاعت طلب کی ہے اور خلیفہ وقت (منصور دوانقی) سے صریحا کہا ہے(استشفع بہ) کہ انکو اپناشفیع قرار دے اور ان سے توسل کر ۔
۴۔ مالک ابن انس منصورکومخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام تمہارے اور ہمارے باپ آدم کے لئے روز قیامت وسیلہ ہیں یہ کلام اشارہ ہے اس آیت کی طرف (یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلہ)(۲)اے ایمان والوں اللہ سے ڈرواور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔
۵۔ اس مناطرہ سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ حرمت رسول خدا مرنے کے بعد ایسی ہی ہے جیسی حرمت آپ کی حیات کے وقت تھی کیونکہ لوگوں کو متوجہ کررہا ہے کہ یہ حرم رسول ہے یہاں پر بھی دھیمی آواز میں اور احترام کے ساتھ کلاکرنا چاہئے اور مالک نے منصور کے لئے اس آیت کرےمہ کی تلاوت فرمائی (یا اےھا الذین آمنوا ولا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی )(۳)اے اےمان والوں خبر دار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا ۔
اسی طرح اللہ نے اس گروہ کے لئے ارشاد فرمایا کہ جو نبی کا ادب و احترام نہیں کرتے تھے (ان الذین ینادنک من وراء الھجرات اکثرھم لا یعقلون )(۴)بےشک جو لوگ آپ کے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان کی اکثریت کچھ نہیں سمجھتی ہے ۔
مالک ابن انس ان آیتوں کی تلاوت کرکے منصور کو ہوشیار کرنا چاہتے ہیں کہ حرمت واحترام رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ) مرنے کے بعد بھی ایسی ہی ہے جس طرح انکی حیات میں تھی ۔اگر یہ آیت کریمہ رسول کی حیات سے مخصوص تھی تو پھر مالک نے یہاں پر انکی تلاوت کیوں فرمائی لہذا یہاں پر دو باتیں سامنے آتیں ہیں ایک تو یہ کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو وسیلہ بناناانسانوں کے لئے اس بات کا سبب ہوجاتا ہے کہ مالک جیسا انسان آپ کے مرقد مطہر کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس سے منہ نہیں موڑتا اورپھر اس نے وسیلہ ہونے پر ایک فرع اور مرتب کی ہے ایک یہ کہ امین قبہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ ان کو شفیع اور اپنا واسطہ قرار دیں اور وسیلہ اور توسل کے یہی معنی ہیںیعنی جب رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ) تمہارے وسیلہ ہیں تو پھر تم ان کو اپنا قبلہ قرار دو اور ان کے سامنے کھڑے ہو اور ان کو شفیع و واسطہ قرار دو اور ان سے توسل کرو۔
۶۔ مالک ابن انس اس مطلب کو بالکل صرےح طور پر کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے شفاعت طلب کرنا عالم برزخ میں اور مرنے کے بعد بھی جائز ہے لیکن انکے خلاف وھابی لوگ کہتے ہیں کہ غیر خدا سے شفاعت طلب کرنا حرام ہے اور شرک ہے مالک کہتے ہیں کہ رسول خدا تیرے لئے شفیع اور وسیلہ ہیں انکا یہ جملہ (استشفع بہ )اس کے معنی یہ ہیں کہ ان سے توسل کرنا عالم برزخ میں بھی امور دنیا کے لئے کوئی ممانعت نہیں رکھتا اور وہ اس مکالمہ یا مناظرہ سے کاملا استناد کرنا چاہتے ہیں کہ جب انکو اپنے گناہ اور آخرت کے لئے شفیع اور واسطہ قرار دینا جائز ہے تو پھر اپنے دین و دنیا کی حاجتوں کے لئے تو با درجہ اولی ہے ۔
۷۔ مالک کا کلام اس بات میں بھی بالکل واضح اور صرےح ہے کہ مسلمان دعا کرتے وقت رسول اکرم کے حرم میں انکی قبر مبارک کے بالکل سامنے کھڑے ہوتے تھے اور دعا کرتے تھے اور اگر اس طرح سے دعا کرنا صحیح نہ ہوتا تو مالک کبھی بھی خلیفہ منصور عباسی کو اس بات کی تائید نہ کرتے اور کہتے کہ انکی قبر کے روبرو کھڑے ہو ۔برخلاف ابن تےمیہ کے وہ کہتا ہے کہ جب بھی اصحاب و تابعین یا انکے پیروکار پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کے نزدیک جاتے تھے تو فقط ان پر سلام کرتے تھے اور اگر وہ دعا کرنا چاہتے تھے تو اپنا رخ قبلہ کی برف کر لیا کرتے تھے اور قبر سے انحراف کر لیا کرتے تھے(۵)۔
حوالہ جات: ۱۔ سبل الھلانی والہ شادجلد۱۱صفحہ ۴۳۹ووفاء الفاء جلد ۴صفحہ ۱۳۷۶۔
۲۔ سورہ مائدہ آیت نمبر ۳۵۔
۳ ۔ حجرات آیت نمبر ۲۔
۴۔ سورہ حجرات آیت نمبر ۴۔
۵۔ دعاء وتوسل جلد ۶۲و۶۵۔
تاریخ انتشار: « 1398/09/19 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 889