پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے ان کی حیات میں توسل کرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے ان کی حیات میں توسل کرنا

سوال: کیا پیغمبر اسلام سے انکے زمانہ حیات مین توسل کرنا جائز ہے
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ)انسانوں میں سب سے شریف ترین وگرامی ترین انسان تھے جنکو اللہ نے سب سے بہترین خلق کیا تھا قرآن مجید کی بہت سی آیات آپ کی منزلت و مقام کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن ہم اس مختصرسی بحث میں ان تمام آیات کو ذکر نہیں کر سکتے پیغمبراسلام کی منزلت کے لئے صرف اتنا ہی کہدینا کافی ہے کہ خدا وندعالم نے آپ کی وجہ سے لوگوں کو عذاب سے محفوظ رکھا ہے اور اس بات کی تصریح کر رہا ہے کہ جب تک آپ انکے درمیان موجود ہیں تو خدا ان پر عذاب نازل نہیں کرےگا”وما کان اللہ لیعذبھم وانت فےھم وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون “ اللہ ان پر اس وقت تک عذاب نہیں کرےگا جب تک پیغمبران کے درمیان ہیں اور خدا ان پر عذاب کرنے والا نہیں ہے اگر یہ توبہ و استغفار کرنے والے ہو جائیں ۔
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی عظمت کے لئے اتنا کافی ہے کہ خدا ودند عالم نے انکے نام کو اپنے نام کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسول کی اطاعت کا ذکر کیا ہے ۔”ومن ےطیع اللہ ورسلہ فقد فازا فوزعظیما“(۲)جو بھی خدااور ااس کے رسول کی اطاعت کرےگا وہ عظیم کامیابی کے درجے پر فائز ہوگا۔
یہ آیت اوردوسری آیات سب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی کرامت و منزلت کی حکایت کرتی ہیں ۔ایسی منزلت خداوند عالم نے اس دنیا میں کسی کو نہیں دی ہے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اسی قدسی مقام کی وجہ سے آپ کی دعا مستجاب ہوتی ہے ۔اسی لئے اللہ نے گناہ گاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کی بارگاہ میں حاضرہوں اور ان سے درخواست کریں تاکہ وہ انکے حق میں استغفار کریں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر کوئی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے استغفار طلب نہ کرے تو اس کو نفاق کی علامت جانا گیا ہے(۳)۔
ولو انھم اذظلمواانفسھم جاؤک فاستغفرلھم الرسول لوجدواتوابا رحیما“(۴)اے رسول جب یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں تو آپ کے پاس آتے ہیں اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور رسول بھی انکے لئے استغفارکرے تو خدا وند عالم کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پائیں گے ۔
بہت سی آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ پہلی والی امتیں بھی پیغمبروں سے طلب استغفار کرتی تھیں مثال کے طور پرجب جناب یعقوب کے فرزندوں کی خطا ظاہر ہو گئی تو انہوں نے اپنے پدر محترم سے کہا : ”یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا کنا خاطئین وقال سوف استغفر لکم ربی انہ ھو الغفور الرحیم“ (۵)جناب یوسف کے بھائیوں نے جناب یعقوب سے کہا اے بابا آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں ہم یقینا خطا کار تھے تو جناب یعقوب نے فرمایا عنقریب ہم تمہارے حق میں استغفار کریںگے میرا پروردگار بہت بخشنے والا اورمہربان ہے ۔
جب ہم اس طرح کا توسل کا دےکھتے ہیں تو پھر بحث کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی اور اس کی مخالفت کرنے کی ہمت بھی نہیں ہو تی کیونکہ سب سے مھم چیز پیغمبر کی دعاوں کا مستجاب ہونا ہے اور یہی چیز انکے مقام و منزلت پر خدا کی نگاہ میں دلالت کرتی ہے(۶) ۔
حوالہ جات: ۱۔ سورہ انفال آیت نمبر ۳۳۔
۲۔ سورہ احزاب آیت نمبر ۷۱۔
۳۔ سورہ سورہ منافقون آیت نمبر ۵۔
۴۔ سورہ نساء آیت نمبر ۶۴۔
۵۔ سورہ یوسف آیت نمبر ۹۷۔۹۸۔
۶۔ گزیدہ و رھنمای حقیقت۵۰۔۵۲۔
تاریخ انتشار: « 1398/09/21 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 840