پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رحلت کے بعد ان سے توسل کرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رحلت کے بعد ان سے توسل کرنا

سوال: کیا کوئی ایسی روایت موجود ہے جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رحلت کے بعد ان سے توسل کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہو ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اس مورد میں چند روایات پائی جاتی ہیں جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رحلت کے بعد ان سے توسل کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں :
۱۔سمہودی طبرانی سے اپنی جامع کبیرمیں عثمان بن حنیف سے نقل کرتا ہے: ایک شخص اپنی حاجت کے لئے عثمان بن عفان (خلیفہ سوم) کے پاس آتا تھا لیکن خلیفہ اس کی حاجت کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا ایک روز اس نے عثمان بن حنیف سے ملاقات کی اور اس سے اس بات کی شکایت تو اس نے کہا: تم اپنے گھر جاؤ وضوکرو اور مسجد میں آؤاور دو رکعت نماز پڑھ کر اس طرح سے کہو:
پروردگار ا ! میں تیری بارگاہ میں درخواست کرتا ہوں اور تیرے سامنے دست بدعاء ہوں اور تجھکو تیرے نبی کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری حاجت کو پورا فرما ئیے اس کے بعد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے دعا کرو کہ میری حاجت کو پورا کر دیجئے اس کے بعد اپنی حاجت کو بیان کرو وہ شخص چلا گیا اور اسی طرح سے بیان کیا اس کے بعد وہ شخص خلیفہ عثمان کے گھر آیا جب وہ اس کے گھر پہنچا تو وہ خادم جو اس کے گھر کے باہر کھڑا رہتا تھا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خلیفہ کے پاس لے گیا تو عثمان نے اس سے معلوم کیا کہ تیری حاجت کیا ہے اس نے اپنی حاجت کو بیان کیا ، خلیفہ نے اس کی حاجت کو پورا کر دیا اور اس کے بعد کہا : اگر تیری کوئی اورحاجت ہو تو بیان کر میں اس کو ضرور پورا کروں گا اس کے بعد وہ شخص عثمان کے پاس سے چلا گیا جب عثمان بن حنےف سے ملاقات ہوئی تو اس سے کہنے لگاکہ اے عثمان خدا تم کو جزائے خیر دے آج خلیفہ نے میری حاجت کو پورا کر دیا اور اگر تم اس سے میری سفارش نہ کرتے تو وہ میری حاجت کو کبھی پورا نہ کرتا۔
عثمان بن حنیف نے کہا: خدا کی قسم ! میں نے اس سے کوئی سفارش نہیں کی ہے لیکن میں ایک بات کا شاہد ضرور ہوں کہ ایک نا بینا شخص پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پاس آیا اور اپنے نا بینا ہونے کے متعلق رسول سے شکایت کرنے لگا تو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس سے فرمایا کہ اگر تم یہ چاہتے ہوکہ میں دعا کروں تو پانچ منٹ صبر کرو وہ شخص کہنے لگا یا رسول اللہ !میرے لئے یہ نابینائی بہت مشقت ہے ۔ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے اس سے فرمایا: جاؤ وضو کرو اور دو رکعت نما ز بجالاؤ اور اسکے بعد دعا کرو وہی دعا جو میں نے تم سے بیان کی ہے!
ابن حنیف نے کہا: خدا کی قسم ہم ابھی وہاں سے نکلے نہیں تھے کیونکہ ہماری گفتگوطویل ہو گئی تھی وہ شخص جب ہمارے پاس سے گزرا تو ایسا لگتا تھا جیسے پہلے یہ اندھا ہی نہیں تھا۔
سمہودی کہتا ہے کہ اس واقعہ کو بیہقی نے دو طریقوں سے نقل کیا ہے (۱)(۲)۔
یہ واقعہ بھی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے توسل کوبیان کرتا ہے اس کے علاوہ دوسراواقعہ بھی موجود ہے جو آپکی وفات کے بعد کا ہے جس کی نسبت عثمان بن حنیف کی طرف اور ایک کی عثمان بن عفان کی طرف ہے۔
۲۔سمہودی نقل کرتا ہے: ایک مرتبہ مدینہ کے لوگ قحط سے دوچار ہو گئے لہذا اس گرفتاری سے نجات پانے کے لئے عائشہ کی خدمت میں آئے اور اس قحط کی شکایت کرنے لگے تو انہوں نے کہا:
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کی طرف نگاہ کرو اور پھر نظروں کو آسمان سے ملا لو یعنی آسمان کی طرف نظریں جما کے دےکھو اور اس طرح تمہارے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو نے پائے اور انکے ذریعے سے خدا سے شفاعت طلب کرو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا جس کے نتیجے میں آسمان سے بارش برسی زمین سرزبز ہو گئی قحط سالی ختم ہو گئی اونٹوں میں ( گھانس زیادہ ہونے کی وجہ سے) چربی زیادہ ہو گئی اور وہ خوب موٹے تازہ ہو گئے جب لوگوں نے یہ دےکھا تو اس سال کا نام ” موٹا ہونے والا سال“ رکھدیا (۳)۔
اور یہ سنت بن گئی کہ جب بھی اہل مدینہ خشک سالی کے شکار ہوتے تو اسی طرح پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبرپر دعا کیا کرتے تھے ۔
۳۔محمد بن عبید اللہ بن عمر اور عتبی سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا: ہم لوگ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کے قرےب بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عربی بادبہ نشین آپ کی قبر مبارک پر آیا اور کہنے لگا ”السلام علیک یا رسول اللہ“ایک روایت میں ہے اس نے کہا: سلام ہو تم پر کائنات کے بہترین رسول ، یقینا خداوند عالم نے تم پر کتاب نازل کی ہے اور جو اس کتاب میں کہا ہے وہ سب صحیح اور سچ ہے کہ : ”ولو انھم اذظلمواانفسھم جاؤک فاستغفرلھم الرسول لوجدوا توابا رحیما“وقد جئتک مستغفرا من ذنبی مستشفعا بک الی ربی “(۲) خدا وند عالم فرماتا ہے : اے رسول جب یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں تو آپ کے پاس آتے ہیں اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور رسول بھی انکے لئے استغفارکرے تو خدا وند عالم کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پائیں گے ۔اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)اس وقت میں آپ کے پاس آیا ہوں میں اپنے گناہوں سے استغفار کرتا ہوں اورآپ کو اپنے خدا کے حضور میں شفیع قرار دیتا ہوں ۔
یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا ایک مرتبہ مجھے خواب کا غلبہ ہواخواب میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو دےکھا انہوں نے فرمایا: اے عتبی اس اعرابی کو تلاش کرو اور اس کو بشارت دے دو کہ خدا وند عالم نے تمہیں معاف کر دیا ہے اور تیرے تمام گناہ معاف کر دئے گئے ہیں میں اس کو تلاش کرتا رہا لیکن اس کو تلاش کر نہ پایا اس حکایت کو سمہودی نے کتاب وفاء الوفاء میں ذکر کیا ہے (۴)۔
اس حکایت میں مخاطب خدا وند عالم ہے اور پیغمبر اسلام کو مغفرت طلب کرنے کے لئے واسطہ قرار دیا گیا ہے۔
کتاب وفاء الوفاء میں ذکر کیاگیا ہے کہ یہ حکایت مشہور ہے اور حکایت لکھنے والوں نے اس حکایت کو کتاب مناسک میں بھی ذکر کیا ہے اور تمام مذاہب نے اس حکایت کو بہتر جانا ہے اور انکو آداب زیارت میںبیان کیا ہے اور ابن عساکر نے بھی خود اپنی کتاب میں ان حکایات کو ذکر کیا ہے اور ابن جوزی نے کتاب مشیر الغرام اور ان دو کے علاوہ ان کی سند کو محمد بن حرب حلالی نے ان حکایات کے ساتھ ذکر کیا ہے۔(۵)
۴۔بیہقی اور ابن شیبہ روایت کرتے ہیں کہ عمر کے ایام خلافت میں ایک مرتبہ لوگ قحط سالی سے دوچار ہو گئے ”بلال بن حرث“پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کے نزدیک آئے اور کہنے لگے یا رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)اپنی امت کے لئے باران رحمت طلب کیجئے کہ لوگ بھوک و پیاس سے نابود ہوتے جا رہے ہیں (۶)۔
ہم جانتے ہیں کہ بلال ایک طولانی مدت تک پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی صحبت میں بےٹھے اور انکے اچھے دوست اور صحابی بھی تھے اور بہت سے احکام کو آپ نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے بغیر کسی واسطہ کے اخذ کیا ہے چنانچہ اگر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے طلب کرنا یا ان سے توسل کرنا شرک یا غلط ہوتا توبلا شک بلال اس فعل کے مرتکب نہ ہوتے اگر یہ فعل غلط ہوتا تو دیگر صحابہ انکو اس فعل سے منع کرتے لیکن کسی نے بھی انکو منع نہیں کیا لہذا ان کا یہ فعل توسل کے جواز پرایک محکم دلیل ہے۔
۵۔کتاب خلاصة الکلام میں مواھب الدنیہ سے نقل کیا ہے کہ ابن فدیک جو تابعین کا پیروکا ر اورمعتبرو مشہور رہنما ہے، اس سے دو کتابوں صحیح مسلم و صحیح بخاری میں اور ان دو کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں میں روایت آئی ہیں وہ کہتا ہے کہ میں بعض علمای و صالحین افراد سے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم تک بھی اس طرح سے پہنچا ہے کہ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کے نزدیک کھڑا ہو اور وہ اس طرح سے پڑھے: ”یا اےھا الذین آمنوا “اور ستر مرتبہ یہ کہے ”صل اللہ علیک یا محمد“ تو ملائکہ اس کو صدا دینے لگتے ہیں کہ سلام ہو تجھ پر اے فلاں شخص اور کوئی بھی اس کی حاجت بےکار نہیں جاتی اس کے بعد وہ کہتاہے کہ جیسا کہ کتاب مواھب میں ابن فدیک سے نقل ہوا ہے اس طرح سے بیہقی نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔
یہ واقعہ بھی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی وفات کے بعد کا ہے جس میں ان سے توسل کرنااور حاجت وغیرہ کو طلب کیا گیا ہے اور اس میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو وفات کے بعد مخاطب کیاگیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انکی حیات کے بعد انکا اپنی امت سے ارتباط باقی ہے (۷)۔
حوالہ جات: ۱۔ وفاء الوفاء جلد ۴صفحہ ۱۳۷۳۔
۲۔ کتاب طبرانی المعجم الکبیر جلد ۹ صفحہ ۳۰ باب ما اسند الی عثمان بن حنیف رقم ۸۳۱۱۔
۳۔ وفاء الوفاء جلد ۴صفحہ ۱۳۷۴۔
۴۔ وفاء الوفاء جلد ۸صفحہ ۲۵۹۔۲۵۸۔
۵۔ وفاء الوفاء جلد ۸صفحہ ۱۳۷۴۔
۶۔ زینی و جلاں الدرد السنیہ جلد ۱صفحہ ۹۔
۷۔ کتاب دعا و توسل صفحہ ۱۳۷ و ۱۲۸۔
تاریخ انتشار: « 1398/09/19 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 937