پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی حیات میں ان سے توسل کرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی حیات میں ان سے توسل کرنا

سوال: کیا ایسی کوئی روایت ہے جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی حیات میں ان سے توسل کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہو؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: وہ روایات جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی حیا ت میں ان سے توسل کرنے پر دلالت کرتی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں یہاں پر ہم بعض روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱۔عثمان بن حنیف سے منقول ہے کہ ایک نا بینا شخص پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پاس آیا اور اپنے نا بینا ہونے کے متعلق رسول سے شکایت کرنے لگا تو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس سے فرمایا کہ اگر تم یہ چاہتے ہوکہ میں دعا کروں تو پانچ منٹ صبر کرو وہ شخص کہنے لگا یا رسول اللہ !میرے لئے یہ نابینائی بہت مشقت ہے ۔ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے اس سے فرمایا: جاؤ وضو کرو اور دو رکعت نما ز بجالاؤ اورپھر اس کے بعد اس طریقے سے دعا کرو پروردگار میں تیری بارگاہ میں ہوں اور تیرے پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے وسیلے سے درخواست کرتا ہوں اور انکو تیرے حضور میں اپنے لئے وسیلہ قرار دیتا ہوں تو میری حاجت کو پورا فرما پروردگار اپنے رسول کی شفاعت کو میرے حق میں قبول فرما اور انکو میرا شفیع قرار دے ۔
ابن حنیف نے کہا: خدا کی قسم ہم ابھی وہاں سے نکلے نہیں تھے کیونکہ ہماری گفتگوطویل ہو گئی تھی وہ شخص جب ہمارے پاس سے گزرا تو ایسا لگتا تھا جیسے پہلے یہ اندھا ہی نہیں تھا(۱)۔
۲۔طبرانی نے جامع کبیر میں اور حاکم نے مستدرک میں بیہقی نے دلالہ النبوة میں اور ابن حیان نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے نقل کیا ہے کہ جس وقت بنت اسد امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی والدہ گرامی اس دنیا سے رحلت فر ماگئیں اور ان کے لئے قبر تیار کی گئی تو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے اس طرح سے دعا کی ”اللہ الذی ےحیی و ےمیت وھو حی لا ےموت .غفر لامی فاطمہ بنت اسد ووسع علیھامدخلھا بحق نبیک والانبیاء الذین من قبلی“(۲)وہ خدا وند عالم جو زندہ کرتا ہے اور مودت دیتا ہے اور وہ زندہ ہے جو کبھی نہیں مر سکتا ،فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما اپنے پیغمبر کے حق کے واسطے سے اور ان انبیاء کے ذریعے سے جو مجھ سے پہلے تھے ۔
سید احمد زینی دحلان اپنی کتاب”الدرر السنیہ فی الرد علی الوھابیہ“میں لکھتے ہیں: ابن ابی شیبہ نے اس حدیث کو جابر سے نقل کیا ہے اور ابن عبد البرنے ابن عباس ابو نعیم سے نقل کیا ہے(۳)۔
یہ دعا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ زندہ اور مرنے والے دونوں سے توسل کرنا صحیح ہے کیونکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ)خود زندہ تھے تو اپنے ذریعے سے اور ان سے پہلے جو انبیاء مر چکے تھے انکے واسطے سے توسل کر رہے تھے اسکا مطلب یہ ہے کہ زندہ اور مرنے کے بعد توسل کرنا حق ہے ۔
اور انہوں نے کتاب خلاصة الکلام میں کہا ہے کہ اس حدیث کو طبرانی نے جامع کبیر میں ونیز ابن حیان و حاکم وغیرہ نے نقل کیا ہے اور اسکو صحیح حدیث تسلیم کیا ہے (۴)۔
۳۔بخاری اپنی کتاب صحیح میں اورابن اثیرنے کتاب”اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ“میں تحریر کیاہے کہ ایک سال قحط پڑا تو عمر بن خطاب نے عباس بن عبد المطلب کے واسطے سے باران رحمت طلب کی اور کہا اے پروردگار ہم پہلے تیرے پیغمبر کے ذریعے سے تجھ سے توسل کرتے تھے تو ہم کو سیراب کر دیتا تھا لیکن اس وقت ہم تیرے پیغمبر کے چچا کے ذریعے سے توسل کرتے ہیں کہ ہم کو سیراب فرما تو پروردگارنے انکو سیراب کر دیا (۵)۔
اس تاریخی واقعہ کو نقل کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے خدا کے نزدیک واسطہ اور توسل کا واقعہ کئی بار تکرار ہو ا ہے اور لفظ”کنا نتوسل“استمرار پر دلالت کرتا ہے اور اسی ضمن میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے چچا جناب عباس سے بھی توسل کرنا جائز ہے اور اس سے ظاھرا یہی واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ خود اس بات کے قائل تھے جس وقت انہوں نے اس کے وسیلہ سے دعا کی اور باران رحمت بر سی تو وہ کہنے لگے”ھذا واللہ الوسیلہ الی اللہ“خدا کی قسم وہ ضرور خدا کی بارگاہ میں ایک وسیلہ ہیں ۔
فسطلانی لکھتا ہے: جب عمر نے جناب عباس کے ذریعہ سے باران رحمت طلب کی تو وہ کہنے لگے: اے لوگوں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ)جناب عباس کو اپنے پدر بزگوار کی طرح سمجھتے تھے لہذ انکی پیروی کرو اور انکو اس عمل میں وسیلہ قرار دو ، اس عمل میں موضوع توسل کی تصرح بیان ہوئی ہے ۔اب وہ لوگ جو توسل کو مطلقا منع کرتے ہیں یا توسل کو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مخصوص کرتے ہیں اس عمل کے ذریعہ ان لوگوں کی بات باطل ہوگئی ہے چاہے وہ غیر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ)ہی سے کیوں نہ توسل کریں (۶)اور حضرت ابن عباس سے توسل کرنا گویا ایک طرح کا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے ہی توسل کرنا ہے کیونکہ عمر نے خود کہا ہے کہ ہم پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے چچا عباس کے ذریعہ سے توسل کرتے ہیں یعنی وہ شخص جو پیغمبر اسلام س(صلی اللہ علیہ و آلہ)ے نزدیک ہے گویا وہ تیرے نزدیک ایک احترام وایک خاص مقام ومنزلت رکھتا ہے یعنی وہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم تیرے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے چچا سے توسل کرتے ہیں (۷)۔
حوالہ جات: ۱۔ مسند احمد بن حنبل جلد ۴صفحہ ۱۳۸حدیث عثمان بن حنیف تھوڑے فرق کے ساتھ ۔
۲۔ کشف الارتیاب صفحہ ۲۶۵وکتاب وفاء الوفاء جلد ۴صفحہ ۱۳۷۳۔
۳۔ جعفر سبحانی سے نقل ہوا ہے آئین وھابیت صفحہ ۱۵۹ووفاء الوفاء جلد ۴صفحہ ۱۳۷۳۔
۴۔ آئین وھابیت صفحہ ۱۵۹۔
۵۔ صحیح بخاری جلد ۲صفحہ ۳۴ باب الاستقاء ۔
۶۔ المواھب اللدنےة جلد ۳صفحہ ۳۸۰۔
۷۔ کتاب دعاء وتوسل صفحہ ۱۱۵و ۱۲۰ و ۱۲۵۔
تاریخ انتشار: « 1398/09/25 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 877