قبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کے آثار

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

قبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کے آثار

سوال: علماء اہل سنت نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مرقد مطہر کی زیارت کے کیا آثار نقل کئے ہیں ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: علماء اہل سنت نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کی زیارت کے متعلق اپنی کتابوں میں ایسی روایات نقل کی ہیں کہ جنکا لازمہ استحباب بلکہ ان میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مرقد مطہر کی زیارت کی تاکید کی گئی ہے،ہم یہاں پر ان روایات کے آثار اور زیارت پر مترتب ہونے والے آثار کو نقل کرتے ہیں:
۱۔ ایک حدیث کو دار قطنی ،بیہقی اور دیگر علماء اہل سنت نے موسی بن ھلال سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ”من زار قبری وجبت لہ شفاعتی “جس نے میری قبر مبارک کی زیارت کی اس کی شفاعت مجھ پر واجب ہے (۱) ۔
۲۔ ابن نجارنے ایک سند میں انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : ” من زارنی میتا فکانما زارنی حیا ومن زار قبری وجبت لہ شفاعتی یوم القیامة وما من احد من امتی لہ سعہ ثم لم یزرنی فلیس لہ عذر“جس نے میرے مرنے کے بعد میری زیارت کری گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی اور جو میری قبر کی زیارت کرے تو قیامت کے روز اس کی شفاعت مجھ پر واجب ہے اور میری امت میں سے جس شخص کے لئے میری زیارت کرنا ممکن ہو اور وہ میری زیارت نہ کر سکے تو اس کے لئے کوئی عذر نہیں ہے (۲) ۔
۳۔ ابو الفتوح نے خالدین یزید سے اس نے عبد اللہ بن عمر اور اس نے سعید مقبری سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ابو ھریرہ کو کہتے ہوئے سنا کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا :”من زارنی بعد موتی فکانا زارنی وانا حی ومن زارنی کنت لہ شھیدا او شفیعا یوم القیامة“جس کسی نے بھی میرے مرنے کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی اور جو کوئی میری زیارت کے لئے آئے گاتو میں قیامت کے روز اس کا گواہ اور اس کا شفیع بنوں گا (۳) ۔
۴۔بخاری نے روایت کی ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا :
جو کوئی میری قبر کے نزدیک درود پڑھے گا تو خداوند عالم ایک فرشتہ کو وکیل کرتا ہے تا کہ وہ اس کو مجھ تک پہنچا دے اور خدا وند عالم ،اس کے دنیا و آخرت کے کاموں میں خیر و برکت عطا کرتا ہے اور میں روز قیامت اس کا گواہ یا شفیع بنوں گا اس کے بعد وہ کچھ اشعارکواس مضمون کے ساتھ نقل کرتے ہیں:جو کوئی بھی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کریگا تو کل روز قیامت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کی شفاعت کریں گے خدا کی قسم اے قصیدہ پڑھنے والے!
ان کے ذکر اور ان کی احادیث کا تذکرہ زیادہ کرو اور ہمیشہ ان پر درود و سلام پڑھو تاکہ تمہاری ہدایت ہو سکے کیونکہ وہ ایسے برگزیدہ رسول ہیں جنکے ہاتھ جود و کرم سے بھرے ہوئے ہیں اور وہ معاف کرنے والے ہیں اور بخش نے والے ہیں انکی شفاعت قیامت کے روز جو کہ وحشت کا دن ہوگا لوگوں کے لئے قبول ہوگی اور روز محشر حوض کوثر انکے لئے مخصوص ہے ۔
پروردگارا! جب تک ستارہ فرقد (ستارہ فرقد وہ ہے جوکبھی غروب نہیں ہوتا )چمک رہا ہے ان پر درود وسلام بھیج۔
اور بعض علماء اہل سنت کا بیان ہے : پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر کے زائرین کے لئے دس کرامات پائی جاتی ہیں :
۱۔ آپ کی قبر کی زائر کے درجات بلند ہوتے ہیں ۔
۲۔ اس کی اہم خواہش پوری ہوتی ہے ۔
۳۔ اس کی آرزو مستجاب ہوتی ہے ۔
۴۔ تحفے اس کو عطاء ہوتے ہیں۔
۵۔ ہلاکت و تباہی سے محفوظ رہتا ہے۔
۶۔وہ تمام عیب سے پاک و پاکیزہ ہوجاتا ہے۔
۷۔ اس کی تمام مشکلات اور پریشانیاں آسان ہو جاتی ہیں ۔
۸۔بلاؤں سے امان میں رہے گا ۔
۹۔ اس کا خاتمہ بالخیر ہوگا ۔
۱۰۔خدا وند عالم اس پر مشرق و مغرب کی رحمتیں نازل کرتا ہے ۔
مبارک ہو اس کو جو بہترین پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کرے اور اپنے گناہوں کو بخشوا لے!
یقینا سعادت اس کے لئے ہے جو مدینہ میں جائے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کرے تو رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کے ضامن ہوں گے (۴) (۵) ۔
حوالہ جات: ۱۔ کتاب وفاء الوفاجلد ۴ ح۱۳۳۶دار قطبی سنن جلد ۲ ص۲۷۸ح۱۹۴۔
۲۔ کتاب وفاء الوفاجلد ۴ص۱۳۴۶ح۱۳۔
۳۔ کتاب وفاء الوفاجلد ۴ص۱۳۴۵ح۱۱۔
۴۔ ا عانة الوالیین جلد ۲ ص۳۱۲و۳۱۳۔
۵۔ طاھری خرم آبادی توحید و زیارت ص۱۳۸و۱۴۸۔
تاریخ انتشار: « 1398/09/21 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1142