پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کا طواف

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کا طواف

سوال: کیا پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کا طواف کرنا حرام ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اہل سنت کی نظر کے مطابق پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر کا طواف کرنا حرام ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔
لیکن، یہ بات غور طلب ہے، اس بیان کے ساتھ کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک یا تمام مشاہدہ مشرفہ، قبور انبیاء اور آئمہ ( علیہم السلام) کا طواف کرنا طواف کرنے والے کے قصد و عنوان کے ساتھ ممکن ہے اس میں چند عنوان پائے جاتے ہوں:
الف : عبادت کے عنوان سے طواف کرنا۔ جیسا کہ خانہ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے جو کہ ایک عبادت ہے اگر کوئی عبادت کے عنوان سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر کا طواف کرے تو یہ ایک بدعت اور حرام ہے اور اس قصد کے ساتھ طواف کرنا فقط کعبہ سے مخصوص ہے اور بس۔
ب : پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کا طواف عبادت کے قصد سے نہ کیا جائے بلکہ اس قصد سے طواف کرے کہ یہ مستحب اور مطلوب ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ایک عمل عبادت نہ ہو اور نہ ہی اسکا صحیح ہونا قصد یا وعنوان پر موقوف ہو لیکن اس عمل کے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہو یا جس قصد سے بھی وہ نجام دے اس سے وہی مطلوب ہو۔
اس طرح یہ فعل بدعت ہے اور اس قصد کے ساتھ انجام دینا بھی صحیح نہیں ہے اور جس طریقے سے ہر وہ عمل کہ جو استحباب کی نیت سے انجام دیا جائے جبکہ اس کے متعلق کوئی حکم بھی نہ ہو اوروہ اس فرض کے ساتھاایک مطلوب و محبوب کام کے عنوان سے انجام دے (نہ کہ عبادت کے عنوان سے) ۔
ج : طواف کرنے والافقط صاحب قبر کی محبت کی وجہ سے اس کا طواف کرے عبادت کے قصد سے نہیں مثلا جس طرح کوئی شخص اپنے بیٹے یا اپنے کسی دوست کے چاروں طرف گھومتا ہے اور کبھی کبھی اپنی زبان سے بھی کہتا ہے کہ میں تم پر فدا ہو جاؤ ں اور تمہارا طواف کروں!اس طرح کے طواف اور چکر لگانے میں کسی طرح کی عبادت یا مطلوبیت شرعی کا شائبہ نہیں ہے اور عام طور سے اس میں کوئی مقید بھی نہیںہوتا کہ کتنی مرتبہ چکر لگائے تاکہ اس کا چکر پورا ہوجائے ۔ممکن ہے کہا جائے کہ یہ ایک لغو اور بے فائدہ عمل ہے اور اس میں کوئی ثواب بھی نہیں ہے بلکہ یہ توفقط اظہار محبت کا ایک طریقہ ہے لہذا یہ کیوں اور کس دلیل سے حرام ہو سکتا ہے ؟کیونکہ کسی چیز کے حرام ہونے یا جائز ہونے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے اور جو طواف کو حرام اور غیر جائز سمجھتے ہیں ان کا قصد پہلی عبادت کے عنوان سے پہلی قسم ہے جب کہ عوام اور وہ لوگ جو انبیاء اور اولیاء کی قبور کا طواف کرتے ہیں وہ اس کو کبھی بھی عبادت کے عنوان سے انجام نہیں دیتے۔
لہذا طواف کو تبرک کے طور پر انجام دینا یہ پیغمبر اسلام سے وابستگی کی دلیل ہے اور یہ صدر اسلام میںبھی مسلمانوں کی سیرت رہی ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کی قبر یا ضرےح کا طواف تبرک اور ثواب کی وجہ سے کرتے تھے (۱) ۔
حوالہ جات: ۱۔ طاھری خرم آبادی توحید و زیارات ص۱۱۲و۱۱۴۔
تاریخ انتشار: « 1398/09/19 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 854