سیرت صحابہ میں پیغمبر اسلام سے توسل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

سیرت صحابہ میں پیغمبر اسلام سے توسل

سوال: کیا وہابیوں کا یہ دعویٰ کہ سیرت صحابہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے توسل نہیں کرتی تھی صحیح ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: تاریخ اور احادیث کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہابیوں کا دعویٰ غلط ہے جو کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک پر دعا یا استغاثہ کرنا کسی بھی صحابی یا تابعےین کا عمل نہیں تھا اور نہ ہی کوئی صحابی و تابعین اس طرح سے کیا کرتا تھا لہذا اس کے اثبات میں ہم بعض نمونہ پیش کرتے ہیں جنکو شافعیوں کے ایک عالم سمھودی نے کتاب وفاء الوفاء میں اخبار دار المصطفی کے ذریعہ بیان کیا ہے ۔
۱۔ دور خلافت عمر میں خشک سالی پڑ گئی تو ایک شخص پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر مبارک کے کنارے آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ اپنی امت کے لئے دعا کیجئے اور پروردگار سے باران رحمت طلب کیجئے ورنہ آپ کی یہ امت ھلاک ہو جائےگی اور اس کے خواب میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) تشریف لائے اور فرمایا اے شخص تم عمر کے پاس جاؤ اور ان سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ انشاء اللہ تمام لاگ سیراب ہو جائنگے یہ خشک سالی ختم ہو جائےگی۔
اس کے بعد سمھودی کہتا ہے: رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ خبر اس پات پر دلالت کرتی ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی موت کے بعد بھی ان سے دعا کی درخواست کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ وہ درخواست وطلب سے مطلع ہیں لہذا کوئی مانع ہی نہیں ہے جس طرح انکی حیات میں ان سے درخواست کرتے تھے اسی طرح ان سے مرنے کے بعد بھی سیرابی یا اس کے علاوہ دیگر حاجات وغیرہ طلب کی جاسکتی ہیں (۱)۔
(۲) سمھودی حافظ ابو عبد اللہ محمد بن موسیٰ بن نعمان سے اس سند کے ساتھ جو حضرت علی علیہ السلام پر ختم ہوتی ہے نقل کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے دفن کے تیس روز بعد ایک عربی آیا اور اس نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر کی خاک اٹھا کر اپنے سر میں ڈالی اور کہنے لگا :
”السلام علیک یا رسول اللہ سمعت اللہ یقول : ”ولو انھم اذظلمواانفسھم جاؤک فاستغفرلھم الرسول لوجدوا توابا رحیما“وقد جئتک مستغفرا من ذنبی مستشفعا بک الی ربی “(۲) میرا سلام ہو آپ پر اے خدا کے بھیجے ہوئے رسول میں نے سنا ہے کہ خدا وند عالم فرماتا ہے : اے رسول جب یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں تو آپ کے پاس آتے ہیں اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور رسول بھی انکے لئے استغفارکرے تو خدا وند عالم کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پائیں گے ۔اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)اس وقت میں آپ کے پاس آیا ہوں میں اپنے گناہوں سے استغفار کرتا ہوں اورآپ کو اپنے خدا کے حضور میں شفیع قرار دیتا ہوں ۔
کتاب وفا الوفاء کامصنف باب ھشتم کے خاتمے میں بہت سے ایسے واقعات جو تقرےبا ۱۶ کے قرےب ہیں نقل کرتا ہے جن میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر کے قرےب پر آکر لوگوں نے درخواستیں اور اپنی حاجتیں طلب کی ہیں اور یہ تمام کے تمام واقعات اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے دعا حاجت اور استغفار و استغاثہ وغیرہ کرنے میں مسلمانوں کی سیرت ہمیشہ قائم رہی ہے اور وہ کہتے ہیں: امام محمد بن موسی بن نعمان نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا عنوان ہے”مصباح الظلام فی المستغثین بخیر الانام “(۳)۔
یہ تمام واقعات جو نقل کئے ہیں یہ چند حال سے خالی نہیں ہیں یا تو یہ تمام واقعات حقیقت رکھتے ہیں یا پھر ان میں بعض واقعات سچے ہیں اوربعض دوسرے واقعات جھوٹے ہیں یا اصل میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے حاجت واستغفار و استغاثہ وغیرہ کرنا صحیح ہے لیکن حاجت کا پورا ہونا یہ غیر واقعی بلکہ جھوٹے ہیں یا پھر ان میں بعض حاجتیں پوری ہوئی ہیں اور بعض دیگر جھوٹی ہیں لیکن اصل میں استغاثہ یا طلب حاجت تمام مورد میں ثابت ہے۔
ایک دوسرا احتمال یہ ہے کہ تمام موارد جو نقل ہوئے ہیں یہ جھوٹے اور غیر واقعی ہیں نہ کوئی طلب حاجت تھی اور نہ ہی انکی کوئی حاجتیں اور مرادیں پوری ہوئی تھیں لہذا اس بناء پر یہ تمام فروض و احتمالات ثابت ہو جاتے ہیں کہ حاجت کا طلب کرنا پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ) سے استغاثہ کرنا یہ تمام چیزیں اس وقت تک رائج و مشہور تھیں لیکن احتمام اول و دوم وسوم وچہارم صحیح ہیں اورواضح ہیں کیونکہ اصل میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے استغاثہ کرنا اور ان سے دعا مانگنا وغیرہ یہ تمام چیزیں اس وقت موجود تھیں اگر ان تمام امور میں سے کوئی چیز قبےح وغیرشرعی ہوتی تو مسلمان اس سے منع کرتے اور اسکا بالکل بھی رواج نہ ہوتا ۔
لیکن احتمال پنجم کی بناء پر اگریہ تمام واقعات حکایات وغیرہ واقعی ہوںتو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل موجب شرک یا کفر و حرام بدعت نہیں ہے کیونکہ وضع کرنے والے جھوٹ بنانے والے ایسے مطالب کو ذکر نہیں کرتے جو ان کو لوگوں کی نظر وں سے گرا دیں اور انکا کفر وشرک ثابت ہو جائے کیونکہ ایسے امور یا ایسے اعمال جو لوگوں کی فکر ونظر میں خصوصا مسلمانوں کی فکر و نظر میں بدعت و نامشروع ہوں ان کو اپنی طرف نسبت نہیں دے سکتے۔مثال کے طور پر بیماری یا بھوک یا تنگدستی میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے توسل کیا تو انہوں نے میری حاجت کو پورا کر دیا کیونکہ ایسی چیزوں کا بیان کرنا خود اسکے کفر و شرک کی علامت بن جائےگا۔ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ایسی حکایات یا ایسے واقعات بیان کرے جو خود اسکو کفر و شرک کی منزل تک پہنچا دے لہذا اسی طرح کی حکایات و واقعات کے بیان کرنے کا لازمہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے استغاثہ کرنا یا ان سے طلب حاجت کرنا تمام مسلمانوں کی نظر میں موجود تھا اور یہ امر غیر شرعی اور بدعت بھی نہیں ہے اور جو شخص بھی ایسی چیزیں نقل کرتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ انکے ذریعہ میں رسول خدا سے قرےب ہو جاؤں اور لوگوں کی نظر وںمیں میرا نام اور عزت بڑھ جائے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں شہرت حاصل کر سکوں (۴)۔
حوالہ جات: ۱۔ کتاب وفاء الوفاء جلد ۷صفحہ ۱۳۷۴۔
۲۔ نفس المصدر۔
۳۔ نفس الکتاب صفحہ ۱۳۷۹و ۱۳۸۷۔
۴۔ دعا و توسل ۶۰۔۵۷
تاریخ انتشار: « 1398/08/26 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 2553