قبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بوسہ دینا اور اس پر ہاتھ لگانا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

قبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بوسہ دینا اور اس پر ہاتھ لگانا

سوال: علماء اہل سنت کی نظر میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کو بوسہ دینا اور ہاتھ لگانا کیسا ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ۱۔ ابن حجر مکی اس متعلق لکھتے ہیں:
. (بعض علماء اہل سنت نے کعبہ کے ارکان کو بوسہ دینے اور وہ جز قابل احترام و تعظیم ہے چاہے وہ آدمی ہو یا غیر آدمی ہو انکو بوسہ دینے جائز جانتے ہیں لیکن پیغمبر اسلام کی قبر مبارک اور قبر کو بوسہ دینے کے متعلق امام احمد بن حنبل سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس مسلئے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن ان کے بعض چاہنے والے اس کو صحیح نہیں مانتے ہیں ابن ابی حےف یمانی جو علماء شافعی میں سے ایک ہیں انکے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ وہ قرآن مجید اور اجزاء احادیث و نیز قبور کے چومنے کو جائز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ایک توفیق ہے اور اس مطلب کو کتاب شوکلانی میں بیان کرتے ہیں (۱) کتاب فتح الباری سے نقل کیا گیا ہے (۲) ۔
۲۔سمھودی لکھتے ہیں کہ عز نے کتاب ”العلل والسئوالات“ میں عبد اللہ ابن احمد بن حنبل نے اپنے والد سے ابی علی بن صوف کی روایت کو اس سے نقل کیا ہے کہ عبد اللہ نے کہا : میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ ایک شخص نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منبر کو مس کیا اور اس سے تبرک و توسل کیا اور اسکو بوسہ دیااور یہی کام پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک پر ثواب کی امید سے انجام دیتا ہے، تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی اشکال نہیں ہے (۳) ۔
۳۔سبکی زیارت کے مسئلہ میں ابن تیمیہ کی رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:مسح قبر کا جائز نہ ہونا اجماعی نہیں ہے،اخبار مدینہ میںروایت ہوئی ہے کہ مروان بن حکم کا اےسے شخص سے سامنا ہوا جو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک سے لپٹا ہوا تھا مروان نے اس کی گردن کو پکڑا اور کہنے لگا :کیا تم جانتے ہو کہ کیا کر رہے ہو ؟اس شخص نے مروان سے کہا :ہاں، میں کسی خاک و پتھر کی کے پاس نہیں آیا ہوں بلکہ میں رسول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خد مت میں آیا ہوں(۴) ۔
۴۔سمھودی نے کہا ہے: جس وقت بلال (رضی اللہ عنہ) شام سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کے لئے تشریف لائے تو پیغمبر اسلام کی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) قبر مبارک کے قریب آئے اور بیٹھ کر گریہ کرنے لگے اوراپنی صورت کوآپ کی قبر پر ملنے لگے ۔ اس روایت کی سند صحیح ہے (۵) ۔
(۵) خطیب بن حملہ ذکر کرتے ہیں: ابن عمر ہمیشہ اپنا داہنا ہاتھ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر پر رکھتے تھے اور بلال اپنے چہرے کو دونوں طرف سے آپ کی قبر مبارک پر رکھتے تھے ۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے بہت زیادہ محبت اس کام کے کرنے پر مجبور کرتی ہے ( اس کے جائزہونے کو ثابت کرتی ہے) اور اس سے مقصود بھی پیغمبر اسلام کی تعظیم و احترام ہے اور لوگوں کے مرتبے ان کے درجات کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس مسئلہ میں مختلف ہیں جیسا کہ خود پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حیات طیبہ میں بھی اس طرح کے لوگ تھے بعض لوگ تو ایسے تھے جب وہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو دیکھتے تھے تو وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتے تھے اور رسول اسلام سے جاکر چپک جاتے تھے اور بعض لوگ صبر سے کام لیتے تھے اور دور ہی سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کرلیتے تھے یہ سب خیر اور نیکیاں ہیں(۶) ۔
۶۔شیخ حسن عدوی حمزاوی مالکی”کتاب کنز المطاب“ (۷) اور” کتاب مشارق الانوار” (۸) میںمذکورہ عبارت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر شریف کو بوسہ دینا صرف تبرک کیلئے ہے لہذا یہ کام ، اولیا ء کی قبروں کو تبرک کے طور پربوسہ دینے سے بہتر ہے اس بناء پر جو کچھ عارف نے کہا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک، جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔ (۹) (۱۰) ۔
حوالہ جات: ۱۔ کتاب نےل الاوطار جلد ۵ص۱۱۵۔
۲۔ کتاب فتح الباری جلد ۳ص۴۷۵۔
۳۔ کتاب وفاء الوفاجلد ۴ ص۱۴۰۴۔
۴۔ نفس المصدر۔
۵۔ کتاب وفاء الوفاجلد ۴ص۱۴۰۵۔
۶۔ کتاب وفاء الوفاجلد ۴ص۱۴۰۵۔
۷۔ ص۲۰۔
۸ ۔ ص۶۶۔
۹۔ کتاب الغدیر جلد ۴ص۱۵۴۔
۱۰۔ طاہری خرم آبادی توحید و زیارات ص۱۲۷و۱۳۷۔
تاریخ انتشار: « 1398/08/28 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 4125