اہل سنت اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کی کیفیت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

اہل سنت اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کی کیفیت

سوال: پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کی کیفیت کے سلسلہ میں فقہائے اہل سنت کے اقوال کیا ہیں ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اہل سنت کی کتابو ں میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زیارت کے متعلق بہت سے اقوال پائے جاتے ہیں ہم یہاں پربعض اقوال کو نمونہ کے عنوان سے ذکر کریں گے:
۱۔ ذکریا انصاری کہتے ہیں:
جس وقت زائر رسول، مسجد نبوی میں داخل ہو تو وہ آپ کے روضہ مبارک کا قصد کرے اور آپ کے منبر کے کنارے نماز تحیت مسجد بجا لائے اور نماز سے فارغ ہو نے کے بعداس نعمت کی وجہ سے خدا کا شکر ادا کرے پھر پشت با قبلہ اور اپنا رخ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کی طرف کرکے کھڑا ہوجائے اور اپنے دل کو دنیوی باتوں سے خالی کرکے تقریبا چار ذراع دور کھڑا ہو اور اپنی آواز کو بلند کئے بغیر آپ پر درود و سلام پڑھے اور حد اقل اس طرح سے کہے السلام علیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) (۱) ۔
۲۔موسی الحجاوی کہتے ہیں:
جس وقت زائر مسجد نبوی میں داخل ہو تو زائر آپ کے روضہ مبارک کا قصد کرے جو کہ قبر اور منبر کے درمیان ہے پھر منبر کے کنارے کھڑا ہو کر نماز تحیت مسجد پڑھے اور نماز سے فارغ ہو نے کے بعداس نعمت کی وجہ سے خدا کا شکر ادا کرے پھر پشت با قبلہ اور اپنا رخ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مبارک کی طرف کرکے کھڑا ہوجائے اور اپنے دل کو دنیوی باتوں سے خالی کرکے تقریبا چار ذراع دور کھڑا ہو اور اپنی آواز کو بلند کئے بغیر آپ پر درود و سلام پڑھے اور حد اقل اس طرح سے کہے السلام علیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) (۲) ۔
۳۔عبد الرحمن بن قدامہ لکھتے ہیں: زائر کے لئے مستحب ہے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہو تو پہلے داہنہ پیر آگے بڑھائے اور پھر اللہ کا نام لے اور رسول اسلام پر درود و سلام پڑھے اور پھر اس طریقے سے کہے : پروردگار! تو مجھے معاف فرمااور اپنی رحمتوں کے دروازوں کو میرے لئے کھول دے اور جب مسجد سے نکلنا چاہے تو پہلے بائیں قدم کو آگے بڑھائے پھرداخل ہوتے وقت کی طرح دعا کرے اور دوسرے جملہ کی جگہ کہے : (خدایا!) اپنے فضل و کرامت کے دروازوں کو میرے لئے کھول دے ۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام)بنت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) سے نقل ہوئی ہے ، رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے آپ کو تعلیم دی تھی کہ جب بھی مسجدنبوی میں داخل ہو تو اس طرح کہو پھر قبر کے پاس آکر قبلہ کی طرف پشت اور قبر کی طر ف رخ کرو اور کہو : السلام علیک ایھا النبی ورحمة اللہ وبرکاتہ (۳) ۔
۴۔ملا علی قاری پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی زیارت کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں:
ا صحاب اور ان کے پیروکاروں کی یہ سنت رہی ہے کہ تم قبلے کی طرف سے داخل ہو اس طرح کہ تمہاری پشت قبلہ کی طرف ہو اور تمہارا رخ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی قبر مبارک کی طرف کرو پھر اس کے بعد اس طریقے سے کہو: السلا م علیک ایھا النبی ورحمة اللہ و برکاتہ (۴) ۔
۵۔سمھودی تحریر کرتے ہیں:
منقول یہ ہے کہ زائر، آپ کی قبر مبارک سے چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہواور ابن عبد السلام کا کہنا ہے کہ تین ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو بہر حال یہ فاصلہ داخل ضریح سے حساب کیا جائیگا و نیز ابن حبیب نے کتاب”الواضحہ“میں کہا ہے کہ رو با قبلہ کھڑا ہو اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی قبر کی زیارت کا قصد کرے پھر قبر مبارک کے قریب آئے ۔
غزالی ،کتاب”احیاء العلوم“میں زائرین کے محل وقوف کو جس طرح ہم نے بیان کیا ہے اسی طرح سے بیان کرتے ہوے کہتے ہیں: زائرین کے لئے بہتر ہے کہ اسی طرح کھڑا ہو جس طرح ہم نے بیان کیا ہے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی اسی طرح زیارت کرے جس طرح آپ کی حیات میں زیارت کرتے تھے اور جس طریقے سے آپ کی حیات طیبہ میں زیارت کرتے تھے اتنے ہی فاصلہ سے آپ کی قبر شریف سے نزدیک ہو کر زیارت کریں(۶) ۔
پھر کہتے ہیں:
اس کے بعد زائر اپنی آواز کو اس طرح سے بلند کرے کہ نہ تو اس کی آواز زیادہ بلند ہو اور نہ ہی آہستہ ہو بلکہ متوسط ہو اوراس طرح سے کہے”السلام علیک یا رسول اللہ یا نبی اللہ “! وغیرہ . اوراگر کوئی ان الفاظ کو حفظ کرنے سے عاجز ہو یا اس کے پاس وقت تنگ ہو تو ان لفاظ میں سے بعض کے کہنے پر اکتفاے کرے جیسا کہ نووی نے بھی کہا ہے کہ حد اقل اس طرح سے سلام کرے”السلام علیک یا رسول اللہ“ اے اللہ کے نبی آپ پرخداوند عالم کا درود و سلام ہو ۔
پھر نووی کے بعد نقل کرتے ہیں کہ زائر اپنی پہلی جگہ کھڑا ہو اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے چہرے کی طرف اپنارخ کرے اور ان سے اپنے لئے توسل کرے اور ان کو اپنے لئے خدا کی بارگاہ میں شفیع قرار دے (۷) ۔
آپ کے چہرے کے پاس دعا و توسل کرنے کے بعد قبر مبارک کے سر ہانے آئے اور وہاں پر جو ستون ہے اس کے اور قبر کے درمیان کھڑا ہو پھر قبلے کی طرف رخ کرے اور اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرے ، اپنے لئے دعا کرے پھر اپنے دوستوں اور اپنے والدین کے لئے دعا کرے اور جن جن لوگوں نے اس سے دعا کے لئے کہا ہے ان کے لئے دعا کرے (۸) (۹) ۔
حوالہ جات: ۱۔ کتاب فتح الواھاب جلد ۱ص۲۷۵۔
۲۔ الاقناع جلد ۱ص۲۳۷۔
۳۔ الشرح الکبیر جلد ۳ ص۴۹۵۔
۴۔ ملا علی قاری شرح سند ابن حنیفہ ص۱۰۱و۲۰۲۔
۵۔ وفاء الوفاجلد ۴ص۱۳۹۸۔
۶۔ وفاء الوفاء جلد ۴ ص۱۳۹۶۔
۷۔ کتاب وفاء والوفا جلد ۴ ص۱۳۹۸۔
۸۔ وفاء الوفا جلد ۴ص۱۴۰۰والمجموع جلد ۸ص۲۷۴و۲۷۵۔
۹۔ طاہری خرم آبادی توحید و زیارات ص۹۵ق۹۹۔
تاریخ انتشار: « 1398/08/29 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1586