حسن بن علی (علیہ السلام) رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزند ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 

حسن بن علی (علیہ السلام) رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزند ہیں

سوال: کیا آیہ مباہلہ کے ذریعہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ امام حسن (علیہ السلام) ، رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزند ہیں ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب:  خداوند عالم نے فرمایا : " فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَکُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمْ " (١) کہدیجئے : ہم اپنے بچوں کو بلاتے ہیں ، تم اپنے بچوں کو بلائو ، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں ، تم اپنی عورتوں کو بلائو ؟ !
یہ آیت بہت ہی صراحت کے ساتھ کہتی ہے : امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام) ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزند ہیں ۔
رازی نے اپنی تفسیر (٢) میں لکھا ہے :
آیہ مباہلہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن اور حسین ، رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزند ہیں کیونکہ آنحضرت (ص) نے وعدہ کیا تھا اپنے بچوں کو مباہلہ کے لئے بلائو اور آپ حسن اور حسین کو لے گئے تھے ، پس یہ دونوں ان کے فرزند ہیں ۔ جو باتیں یہ بات ثابت کرتی ہیں (کہ بیٹی کی اولاد ، انسان کی اولاد شمار ہوتی ہے )ان میں سے ایک سورہ انعام کی آیت ہے جس میں خداوند عالم فرماتا ہے : " وَمِن ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمانَ " ۔ یہاں تک کہ خداوند عالم فرماتا ہے : " وَیَحْیَى وَعِیسَى " ۔ (٣) کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ حضرت عیسی کی حضرت ابراہیم سے نسبت ماں کی طرف سے ہے ، پس ثابت ہوگیا کہ بیٹی کی اولاد اس کی اولاد کہلائی جاتی ہے ، واللہ اعلم ۔
اور قرآن کریم کی ا س لغت کے اوپر اور نواسے یا نواسی کا حقیقت میں بیٹی کے باٍ پ کی اولاد ہونے پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یہ قول ہے :
١۔ "اخبرنی جبرئیل : ان ابنی ھذا (یعنی حسین ) یقتل " ۔ جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ میرا بیٹا یعنی حسین قتل کردیا جائے گا اور ایک دوسری روایت میں ذکر ہوا ہے : " ان امتی ستقتل ابنی ھذ" (٤) میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کردے گی ۔
٢۔ امام حسن (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ابنی ھذا سید " (٥) میرا یہ بیٹا سید و سردار ہے ۔
٣۔ امام علی (علیہ السلام) سے فرمایا : "انت اخی و ابو وُلدی " (٦) تم میرے بھائی اور میرے بیٹوں کے باپ ہو ۔
٤۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یہ قول : المھدی من ولدی و جھہ کالکوکب الدری " (٧) مہدی میرا فرزند ہے اور ان کا چہرہ چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح ہے ۔
٥۔ آنحضرت (ص) کا یہ قول : "ھذان ابنای من احبھما فقد احبنی " (٨) ۔ یہ دونوں (یعنی حسن اور حسین) میرے دو بیٹے ہیں ، جو بھی ان سے محبت کرے گا وہ مجھے محبت کرے گا ۔
٦۔ حضرت علی (علیہ السلام)سے فرمایا : " أیّ شیء سمّیتَ إبنی؟ قال : ما کنتُ لأسبقک بذلک . فقال : وما أنا السابق ربّی فهبط جبریل ، فقال : یا محمّد! إنّ ربّک یقرئک السلام ویقول لک : علیّ منک بمنزلة هارون من موسى لکن لا نبیّ بعدک ، فسمّ ابنک هذا باسم ولد هارون" ۔
میرے بچو ں کے کیا نام رکھے ؟ کہا : میں اس کام میں آپ پر سبقت نہیں لے سکتا ۔ پھر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی اپنے پروردگار پر سبقت نہیں لوں گا ، پس جبرئیل نازل ہوئے اور کہا : اے محمد ! تمہارا پروردگار سلام کہتا ہے اورکہتا ہے : علی کی نسبت تمہارے نزدیک ایسی ہی ہے جیسی ہارو ن کو موسی سے تھی ،لیکن تمہارے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا ، پس اپنے اس بیٹے کا نام ہارون کے بیٹے کا نام رکھو ۔
٧۔ امام حسن (علیہ السلام) نے ابوبکر سے اس وقت مخاطب ہو کر فرمایا جب وہ آپ کے نانا کے منبر پر تھا " انزل عن مجلس ابی " ۔ میرے والد کی جگہ سے نیچے آجائو ۔ ابوبکر نے کہا : "صدقت انہ مجلس ابیک " تم نے سچ کہا ، یہ تمہارے والد کی جگہ ہے ۔
ایک روایت میں ذکر ہوا ہے : انزل عن منبر ابی ۔ میرے والد کے منبر سے اتر جا ۔ عمر نے کہا: منبر ابیک لا منبر ابی من امرک بھذا ؟ (١١) ۔ یہ آپ کے والد کا منبر ہے ، میرے والد کا نہیں، تمہیں کس نے یہ بات کہنے کا حکم دیا ہے ؟ !
یہ تمام روایتیں اس بات پر گواہ ہیں کہ حسنین (علیہما السلام) ، رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فرزند ہیں ، قرآن کریم اور روایات کی ان دلیلوں کے بعد بعض لوگوں کو کس نے یہ جرائت دی ہے جو آل اللہ کو رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اولاد ہونے سے خارج کرتے ہیں (١٢) ۔
حوالہ جات:
1 ـ آل عمران : 61 .
2 ـ التفسیر الکبیر 2 : 488 [8/81] ; و نیز مراجعه کریں: الجامع لأحکام القرآن ، قرطبى 4 : 104 ; و 7 : 31 [4/67 ; و 7/22 ـ 23] .
3 ـ أنعام : 84 و 85 .
4 ـ [ترجمة الإمام الحسین(علیه السلام) از طبقات ابن سعد ، غیرمطبوعه : 44 ، ح 268] ; المستدرک على الصحیحین 3 : 177 [3/194 ، ح 4818] ; أعلام النبوّة، ماوردى : 83 [ص 137] ; الصواعق المحرقة : 115 [ص 192] .
5 ـ المستدرک على الصحیحین 3 : 175 [3/191 ، ح 4809] ; أعلام النبوّة ، ماوردى : 83 [ص 137] ; تفسیر ابن کثیر 2: 155 .
6 ـ ذخائر العقبى : 66 .
7 ـ ذخائر العقبى: 136 .
8 ـ المستدرک على الصحیحین 3 : 166 [3/181 ، ح 4776] ; تاریخ مدینة دمشق 4 : 204 [13/199 ، شماره 1383 ; و در مختصر تاریخ دمشق 7/12] ; کنز العمّال 6 : 221 [12/120] ، ح 34286 .
9 ـ ذخائر العقبى : 120 .
10 ـ الریاض النضرة 1 : 139 [1/175]; شرح نهج البلاغة 2 : 17 [6/42، خطبه 66]; الصواعق المحرقة : 108 [ص 177]; تاریخ الخفاء ، سیوطى : 54 [ص 75] ; کنز العمّال 3 : 132 [5/616، ح 14084 و 14085] .
11 ـ تاریخ مدینة دمشق 4 : 321 [14/175 ، شماره 1566 ; و در مختصر تاریخ دمشق 7/127] .
12 ـ شفیعى شاهرودى، گزیده اى جامع از الغدیر، ص 624.
تاریخ انتشار: « 1392/05/09 »
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 3679