پاکستان میں شیعوں کی بھوک ہڑتال پر آیت اللہ مکارم شیرازی کا رد عمل

امید ہے کہ پاکستان کے حکومتی عہدہ دار جتنا جلدی ہو سکے ان نامعقول اقدامات سے پرہیز کرنے کے لے کوئی ٹھوس اقدام کریں جو مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کر سکتے ہیں.‌

مغرب ھرگز قابل اعتماد نہیں / جب تک ملتیں خود اعتماد نہ ہوں مشکلات حل نہ ہوں گی

ہم نہیں کہتے کہ آپ مذاکرہ نہ کریں ، ان سے رابطہ نہ کریں بلکہ اس بات پر تو جہ رکھیں کہ وہ قابل اعتماد نہیں ہیں ، ہم جب تک اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہوں گے مشکلات سے روبرو رہیں گے‌

حجة الاسلام والمسلمین حاج سید جواد الوداعی (رحمة اللہ علیہ) کی رحلت پر معظم لہ کا تعزیتی پیغام

اس عالم ربانی نے اپنی ساری عمر ،بحرین کے دوسرے بزرگ علماء کے ساتھ مل کر اس ملک کے مسلمانوں کے حقوق کو حاصل کرنے میں خرچ کی اور ان کی سعی و کوشش کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔‌

نقد وہابیت سے مخصوص سایٹ کے افتتاح پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان

علمائے دین اور حوزہ علمیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا فکری اور ثقافتی مقابلہ کرے اور ہمیں ثابت کرنا چاہئے کہ یہ دشمنوں کے آلہ کار ہیں اور ان کے افکار ونظریات بھی اسلام کی برخلاف ہیں ۔‌

الیکشن شروع ہوتے ہی معظم لہ نے بیلٹ بکس میں اپنا ووٹ ڈالا

میں خداوندعالم سے دعاگو ہوں کہ وہ مسئولین کوتوفیق عنایت فرمائے کہ وہ پہلے سے بہتر عمل کریں اور لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں ۔‌

""منتخب الآثار من بحار الانوار"" کی تیسری جلد بھی منظر عام پر آگئی

یہ کتاب جیسا کہ اس کے نام سے معلوم ہے کہ اس کو بحار الانوار سے منتخب کیا گیا ہے اور اس کا انتخاب بہت ہی عالمانہ اور مدبرانہ ہے اور یہ علامہ مجلسی (رحمة اللہ علیہ) کی ارزشمند کتاب بحار الانوار سے ماخوذ ہے ۔‌

مسئولین لوگوں کی مشکلات دور کرنے کیلئے کوشش کو جاری رکھیں

تمام مسئولین ، لوگوں کی قدر کو پہچانیں اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کریں ، ان ریلیوں میں لوگوں کا حاضر ہونا اسلام اور انقلاب کے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹا ہے اور اسلامی انقلاب کے چاہنے والوں کی امیدوں کیلئے ایک وسیلہ ہے ۔‌

جناب ڈاکٹر احمد بدرالدین حسون کا خط حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نام

ہماری عقل و روح میں حضرت عالی کی وہ بلند و بالا ہمت و کوشش ہمیشہ باقی رہے گی جس میں محبت و بخشش کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اور ایسا نور جو آپ کی روح سے ساطع ہوتا ہے ۔‌

"مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات" کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی دوسری کانفرنس کا اختتامی بیان

٢٨ جنوری ٢٠١٦ کو ''مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات'' کے سلسلہ میںدوسری کانفرس منعقد کی گئی اور اس میں بہت سے شیعہ اور سنی علماء کو دعوت دی گئی اور شدت پسند لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اصول و قوانین معین کئے گئے‌

آیت اللہ شیخ نمر (رحمة اللہ علیہ) کو پھانسی دینے پر معظم لہ کا پیغام

ہم اس ہولناک جرم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور یقینا اس کا انتقام لیا جائے گا اور ہم جانتے ہیں کہ آل سعود نے عراق ، شام اور یمن میں اپنی شکست کا انتقام اس طرح لیا ہے ۔‌

شیخ الازهر اور اس دینی مرکز کے دیگر علماء کےنام معظم له کا خط

میں ہمیشہ آپ کو پرامید نگاہ سےدیکھتا تھا اور دیکھتا ہوں، آج بھی آپ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ ٹھوس طریقے سے اس انحراف کا سد باب کریں گے اور الازہر کی ساکھ کو دشمنان اسلام ، وہابیوں اور تکفیریوں کے ہاتھوں داؤ پر لگنے سے بچائیں گے اس لیے کہ ممکن ہے آپ کے اطراف میں کچھ ایسے مفتن قسم کے افراد موجود ہوں جو آپ کو مختلف وسوسوں کے ذریعے خط اعتدال سے منحرف کر دیں.‌

تکفیری پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے خطرہ ہیں / آل سعود بھی تکفیریوں کے خطرات سے محفوظ نہیں رہیں گے ۔

تکفیریوں کا خطرہ انحرافی مکتب اور تفکر سے وجود میں آیا ہے اور علمائے اسلام کو چاہئے کہ وہ اس فکر کی اصل و اساس کو ختم کردیں اور سب سے تعجب کی بات تو یہ ہے کہ آل سعود کی کتابوں اور نصاب تعلیم میں تکفیری نظریوں کو پڑھایا جاتا ہے ۔‌

مسلم دنیا نائیجیریا ئی مسلمانوں کےساتھ ہمدردی کااظہارکرنےکیلئےعزای عمومی کااعلان کرے/تنظیم تعاون اسلامی ہنگامی اجلاس تشکیل دے

بین الاقوامی برادری نے پیرس کے حادثہ میںاس قدر عکس العمل ظاہر کیا تھا لہذا اس بڑے جرم کے سامنے انہوں نے کیا عکس العمل ظاہر کیا ہے اور آئندہ کیا کریںگے ؟البتہ بے گناہ لوگوں کو جس جگہ بھی قتل کیا جائے اس کی مذمت ضروری ہے لیکن کیا یوروپ والوں کا خون مسلمانوں کے خون سے زیادہ قیمتی ہے؟‌

جمہوری آذربایجان کے دردناک حوادث کے موقع پر معظم لہ کا بیان

ہم اپنی شرعی ذمہ داری کی بنیاد پر اسلامی ملک آذربایجان کے حکمرانوں کو یاد دہانی کراتے ہیں کہ اپنے لوگوں کے دینی احساسات اور عواطف کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں اور ان کے دینی حقوق کی رعایت کریں ۔‌

حادثہ منی کی مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت پر تاکید

مجھے امید ہے کہ اسلامی ممالک کے مفتی اور بزرگ علمائے اسلام اس سلسلہ میں موثر قدم اٹھائیں گے اور ایسا کام کریں گے کہ قیامت کے روز خدا کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائیں ''  فَبَشِّرْ عِبادِ ، الَّذینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَہُ أُولئِکَ الَّذینَ ہَداہُمُ اللَّہُ وَ أُولئِکَ ہُمْ أُولُوا الْأَلْباب'' ۔‌

اہل مغرب اور وہابیوں کو حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی دو نصیحتیں / پیرس کے حوادث مغرب کو بیدار کرنے کیلئے ایک انتباه تها .

میں حجاز اور وہابی علماء کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اس وقت اپنے افکار اور نظریات کا نتیجہ دیکھ رہے ہو ، تمہاری فکروں کا نتیجہ سروں کو کاٹنا، جرائم انجام دینا، لوگوں کو زندہ جلانا اور نیست ونابود کرنا ہے ، لہذا تم مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوجائو اور ان غلط افکار کو ترک کردو ۔‌

اربعین حسینی کی مناسبت پر زائرین کرام کو حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی چند نصیحتیں

اربعین بہت ہی قیمتی گوہر اور گرانقدر خزانہ ہے جو کہ اسلام اور مکتب اہل بیت (علیہم السلام) کی عظمت کا سبب ہے ، لہذا اس سے بہتر طریقہ سے استفادہ کیا جائے ۔‌

سعودی حکمرانوں کی بدنظمی اور بے لیاقتی نے حج کی قداست کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے

اس مسئلہ کا ایک غلط اثر ، حج کی قداست کا پائمال ہونا ہے جس کی وجہ سے حج کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے ، یہ ایسا نقصان ہے جس کی تلافی آسانی کے ساتھ ممکن نہیں ہے ۔‌

میدان منی میں دردناک حادثہ پر آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی(مدظلہ)کا تعزیتی پیغام

اس عظیم مصیبت پرآنکھوں میں خون اور دلوں میں آگ بھڑک اٹھی ہے / حرمین شریفین کے مینجمنٹ کے لئے ایک مدبر اور تجربہ کار گروہ معین ہونا چاہئے۔‌

مغرب نےڈموکراسی کانیاطریقہ ایجادکیاہے/اسلامی ممالک کےسربراہ خواب غفلت سےبیدار ہوں

ڈموکراسی اور لوگوں کی لوگوں پر حکومت کہاں ہے ؟ البتہ مذکورہ ممالک میں سے کسی ایک پر بھی وہ کامیاب نہیں ہوں گے ، لیکن ان کی یہ جدید اختراع اور ابداع اس بات کی علامت ہے کہ مغربی حکمراں اپنے شعار (نعرہ) میں کتنے جھوٹے ہیں ۔‌

آل سعود حرمین شریفین کے انتظامات کی صلاحیت نہیں رکھتے

کون سی عقل سلیم اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ جب مسجد الحرام میں لاکھوں کی تعداد میں حج کے لئے حاجی موجود ہوں تو مسجد الحرام کے اوپر کرین موجود ہو جو طوفان آنے کی وجہ سے گر جائے اور ٢٩٠ حاجی زخمی اور جاں بحق ہوجائیں ۔‌

مدینہ منورہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی(دام ظله) کے دفتر کا افتتاح

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا دفتر ایام حج میں ہر سال حجاج کی خدمت کرنے کیلئے مدینہ میں ایک دفتر قائم کرتا ہے اور حجاج کے سوالات و جوابات کیلئے علماء کے ایک گروہ کو اعزام بھی کرتا ہے ۔‌

شیخ الازہر کا آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کو ان کے خط کا جواب

استعماری سیاستمدار ان مذہبی اختلافات، قتل و غارت، دوسروں کے امور میں مداخلت اور دینی مقدسات کی توہین وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔‌

حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کا خط شیح الازہر جناب شیخ ڈاکٹر احمد طیب کے نام

ہم یہاں پر ایک تجویز پیش کرتے ہیں کہ شیعہ اور سنی دونوں مذاہب کے بزرگ علماء کی موجودگی میں ایک علمی کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ اس میں اسلامی اتحاد کی راہ میں پائی جانے والی اہم ترین رکاوٹوں کی چھان بین کی جائے اور دوسری جانب سے اسلامی وحدت کو تقویت پہنچانے والے اہم ترین اقدامات عمل میں لائے جائیں.‌

آل سعود اپنے ملک کے باشندوں کی حفاظت کرنے سے عاجز ہیں

ہم دہشت گردی سے متعلق جرائم کی مذمت کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ کیا سعودی حکومت ان اعمال سے متفق ہے ؟ اگر متفق نہیں ہے تو پھر ان جرائم پر روک کیوں نہیں لگاتی؟ شیعہ مراکز اور مساجد کے اطراف میں حفاظتی گارڈ کیوں متعین نہیں کرتی؟‌

اس وقت دنیا ان تمام جرائم کے ساتھ انسانی تاریخ کے بدترین دور سے گذر رہی ہے

پوری دنیا نے ان جرائم اور مظالم کی مذمت کی ، سعودی علماء اور سیاستمداروں نے بھی اس کی مذمت کی لیکن وہ بہت آسانی سے یہ خیال کرلیتے ہیں کہ دنیا کے لوگ بے خبر اور سادہ لوح ہیں ۔‌

حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی کا خط احمد الطیب (شیخ الازهر) کے نام

سب سے پہلے میں جناب عالی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے الازہر یونیورسٹی میں ''ٹروریسٹ اور افراطی گری سے مقابلہ ''کے عنوان پر کانفرنس منعقد کرکے اس میں اسلامی مذاہب کے نمایندوں کو دعوت دی اور اپنا شجاعانہ اور قیمتی وقت اس کانفرنس پر صرف کیا ، ایسی کانفرنس جس میں ''ایمان'' ، ''کفر''  اور ''جہاد'' کے مفاہیم کی صحیح تفسیر پیش کی گئی اور اسی طرح امت اسلامی کے اتحاد کو مضبوط بنانے پر تاکید کی گئی ۔‌

اسلامی ممالک ایک کے بعد ایک ظاہری طور پر مسلمانوں کے ہاتھوں تخریب ہورہے ہیں

اس وقت دنیا میں عجیب و غریب بدعت شروع ہوگئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جو ملک بھی دوسرے ملک کے حالات کو اپنے مفاد میں نہیں دیکھتے تو وہ بغیر کسی جواز کے اس پر حملہ کردیتا ہے اور جنگ شروع ہوجاتی ہے ، عجیب ناامنی پیدا ہوگئی ہے ۔‌

داعش کے ہاتھوں بعض عیسائیوں کے قتل عام پر آیت الله مکارم شیرازی کا رد عمل

ہم اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مغربی دنیا کو متنبہ کرتے ہیں که اس ظالم ، ستمکار اور وحشی گروہ کی ھر قسم کی مالی امداد بند کریں کیوں کہ اس کا بدترین نتیجہ سبھی کے دامن گیر ہوگا ۔‌

پاکستان میں دہشت گردانہ حادثه، تکفیری وہابیت کی تعلیمات کا نتیجہ ہے

نہیں معلوم ان خود کش حملہ کرنے والے، مردہ ضمیر اور درندہ صفت افراد کو کون سی تعلیم دی جاتی ہے جس سے وہ اپنے آپ کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اللہ کے گھر میں بے گناہ عورتوں اور بچوں کو خاک و خوں میں غلطاں کریں؟‌